4 ستمبر 2015 - 14:25
امریکہ کی تازہ ترین رسوائی، جھوٹی رپوٹ دے کر داعش کی بہت بڑی خدمت

پنٹاگون ایسی تحقیقات انجام دے رہا ہے کہ ممکن ہے کہ فوجی حکام شام اور عراق میں مداخلت کو لے کر دولت اسلامی عراق و شامات (داعش) کے خلاف اپنی جاسوسی پر مبنی رپورٹوں کو پھر سے مرتب کرکے انہیں صدرکی خدمت میں پیش کریں

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عربی نشریہء الیوم نے فلسطین کے ایک قلمکار اور دنیائے عرب کے ایک جانے پہچانے شخص، عبد الباری عطوان کے قلم سے ایک تحلیل میں، یونائٹیڈ اسٹیٹ نے جو رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹ بولے ہیں اور عربی بحران زدہ ملکوں میں جو زیادہ سے زیادہ فوجی مداخلت کی ہے اس کا بھانڈا پھوڑا ہے ۔

عبد الباری عطوان لکھتا ہے : رائے عامہ کو گمراہ کرنے کا وائرس اور جھوٹ باعث بنا ہے کہ امریکہ نے بحران زدہ عرب ملکوں میں اپنی فوجی مداخلت میں اضافہ کیا ہے ۔

روزنامہ نیو یارک ٹائمز نے بدھ کے دن اس راز سے پردہ اٹھایا کہ : پینٹاگون ایسی تحقیقات انجام دے رہا ہے کہ ممکن ہے کہ فوجی حکام شام اور عراق میں مداخلت کو لے کر داعش کے خلاف اپنی جاسوسی پر مبنی رپورٹوں کو پھر سے مرتب کرکے انہیں صدرکی خدمت میں پیش کریں ۔

اطلاعات کی رپورٹوں کو پھر سے مرتب کرنا ،معمول کے طریقوں سے عرب ملکوں کو راضی کرنا ،شام عراق اور لیبیا جیسے کسی ایک ملک کی جنگ کی گمراہ تصویریں نشر کرنے کے لیے ٹی وی سینٹر قائم کرنا بعض ذرائع ابلاغ کے اعتبار کے کم ہونے کا باعث بنا ہے لیکن امریکہ کے فوجی تجزیہ نگار اپنے رہبروں اور عرب ملکوں کے حکام  کو غلط رپورٹیں دے کر  انہیں دھوکے میں رکھے ہوئے ہیں اور یہ چیز ابھی تک کسی کے دماغ میں نہیں آئی ہے ۔

طوفان قاطعیت نام کی کاروائی کے ترجمان احمد عسیری نے یمن پر حملے کے ایک ماہ سے کم کی مدت میں ہی اس ملک کے خلاف کامیابی کا اعلان کر دیا تھا ،اور العربیہ اور الجزیرہ دونوں ہر روز سعودی عرب کی رہبری میں اعرب اتحادیوں کی کامیابی کی نئی خبریں نشر کرتے تھے ۔ان چینلوں نے کبھی بھی یمن کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی ، مقتولین کی تعداد اور  سعودی عرب نے جو اس ملک کے بے گناہ عوام کے خلاف لچھے دار بموں کو استعمال کیا تھا اس کی مذمت میں کوئی بات نہیں کہی ۔

امریکہ کے فوجی اور جاسوسی اداروں کے پاس ایسے افراد ہیں کہ جن کا کام تیسری دنیا کے ملکوں کی رائے عامہ کو گمراہ کرنا جھوٹ کے پہاڑ توڑنا اور شخصیتوں کو قتل کرنا ہے ۔

امریکہ کی جاسوسی ایجینسیوں  نےاس ملک کے صدر  اور وزیروں کو داعش کی طاقت کے بارے میں اس وقت کہ جب اس نے موصل اور الرمادی پر قبضہ کیا تھا جھوٹی خبریں دیں جس کی وجہ سے امریکہ کی رہبری میں بین الاقوامی اتحاد کے ہوائی حملوں میں اضافہ ہوا۔امریکہ کے وزیر دفاع اشٹون کارٹر نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ دولت اسلامی کو ختم کرنے کی جنگ بہت دشوار ہے ،پانچ ہزار سے زیادہ ہوائی حملوں کے باوجود اس کام کے لیے  کئی سال درکار ہیں  ۔بشرطیکہ کئی صدیوں کی ضرورت نہ ہو ، شاید اس طرح کے بد بینی پر مبنی بیانات کی وجہ داعش کے خلاف جنگ میں جھوٹی رپورٹوں کا پیش کیا جانا ہے ۔اس وقت پانچ ماہ ہو چکے ہیں کہ عراقی اور امریکی حکام الرمادی پر دوبارہ قبضہ کیے جانے اور دولت اسلامی کی فوجوں کے کھدیڑ دیے جانے کی بات کر رہے ہیں لیکن وہیں ہم دیکھ رہے ہیں کہ داعش نے بیجی کے آدھے شہر پر قبضہ کر لیا ہے کہ تیل کی تصفیہ گاہ بھی اس میں شامل ہے ۔

امریکی فوجی کمانڈروں کی جھوٹی اور غلط رپورٹیں امریکی رہنماوں اور فوجی کمانڈروں کے دھوکہ کھانے کا باعث بنتی ہیں ،اور یہی چیز دولت اسلامی کی بہت بڑی خدمت ہے ۔جھوٹی اور غلط رپورٹیں دینے کی وجہ سے داعش کے خلاف جنگ میں امریکی منصوبوں اور حکمت عملی کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہی چیز دولت اسلامی کے پھیلنے کا باعث بنتی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲